ابنا: عبدالھادی الخواجہ کی گرفتاری کہ جس کےبعد عوامی مظاہروں کی نئی لہرکاسلسلہ شروع ہوگیا، اب بحرین کےانسانی حقوق کےادارے کےسربراہ کی گرفتاری تک نوبت آگئ ہے ۔
بحرین کےانسانی حقوق کےسرگرم رکن نبیل رجب جو بحرین میں عوامی مظاہروں کےآغاز سے ہی عوام کےشانہ بشانہ ظلم وجور اورامتیازی سلوک کےخلاف جدوجہدکرتےرہےہيں سیکورٹی اہلکاروں کےہاتھوں گرفتارکرلئےگئےہیں۔
انھیں بیروت سےواپسی پر منامہ ایئرپورٹ پرگرفتارکرلیاگیا۔بحرینی سیکورٹی اہلکاروں کےاس اقدام پربحرین میں شدید ردعمل سامنےآیا۔بحرین کےمختلف سیاسی گروہوں نے نبیل رجب کی حمایت کرتےہوئے اس ملک پرحکمراں آمر کی جانب سے آزادی بیان کی پابندی پرمبنی پالیسیوں کی مذمت کی ۔
بحرین کےنیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ کےجنرل سکریٹری نےکہاکہ نبیل رجب کی گرفتاری سےپتہ چلتاہےکہ آل خلیفہ کےدعوےجھوٹےہيں اورملک میں آزادی بیان کا دور دور تک گذر نہيں ہے ۔ بحرین کےنیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ کےجنرل سکریٹری فاضل عباس نےکہاکہ بحرین کےموجودہ حکمراں نبیل رجب کوگرفتارکرکے انسانی حقوق کےکارکنوں اورسیاسی رہنماؤں کویہ پیغام دیناچاہتےہيں کہ جوبھی ملک کےنظام حکومت پرتنقیدکرےگا اسےآل خلیفہ کےغیض وغضب کاسامناکرناپڑےگا۔عوام کےاندر خوف ووحشت پیداکرنا بھی نبیل رجب کی گرفتاری کاایک اہم مقصد ہے۔
بحرین کےسیاسی گروہوں کےبعض رہنما نےفاش کیاہے کہ آل خلفیہ ملک میں عوامی تحریک کوروکنےکےلئےایک منصوبہ تیارکررہی ہے جس کےتناظرميں سیاسی رہنماؤں اور انسانی حقوق کےسرگرم اراکین کوقتل کردیاجائےگا یاانھیں گرفتارکرکےکال کوٹھریوں میں ڈال دیاجائےگا۔سیاسی گروہوں کی جانب سےاس منصوبےکےسامنےآنےکےبعد ایک بارپھر آل خلیفہ کی ماہیت رائےعامہ کےسامنےآگئي ہے۔
بحرین کےسیاسی گروہوں کی نگاہ میں آل خلیفہ کی اپنےعوام کےسلسلےميں کارکردگی سےپتہ چلتاہےکہ وہ اصلاحات پربالکل یقین نہيں رکھتی ۔ ان حالات میں بحرین کےبحران کوحل کرنےکےلئے سیاسی راہ حل کی بات کرنا لاحاصل ہے۔ بالخوصوص ایسی حالت میں شاہ بحرین کےمشیرنبیل الحمر نےبھی مخالفین سےگفتگوکی مخالفت کااعلان کیاہے۔
حقیقت یہ ہےکہ بحرین کےعوام کوآل خلیفہ کےآہنی ہاتھ کی پالیسی کاسامنا ہے اوراس ملک کےحکمراں بنیادی طورپر اصلاحات پرذرہ برابربھی یقین نہيں رکھتے۔ سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ امریکہ بھی آل خلیفہ کی حمایت کرتاہے اگرامریکہ اورجنوبی خلیج فارس کےعرب ممالک بحرینی حکمرانوں کی حمایت نہ کرتےتووہ پندرہ مہینوں تک احتجاجی مظاہروں کےسیلاب کےسامنے نہيں ٹک سکتےتھے۔ بعض بحرینی گروہوں نےبھی یہ مسئلہ اٹھایاہے کہ بحرین میں انسانی حقوق کےاراکین کی گرفتاری امریکہ کی ہری جھنڈی سےانجام پارہی ہے۔
عبدالھادی الخواجہ اور نبیل رجب ان افراد میں سے ہيں جوبحرین میں ظلم وبربریت کےخلاف رائےعامہ کوبیدارکرنےمیں اہم کردارکےحامل رہےہیں ۔
اس وقت بحرین پرحکمراں ٹولہ یہ خیال کرتاہےکہ انسانی حقوق کےکارکنوں کوگرفتارکرکےاس ملک کی حریت پسندی کی تحریک کوروکا جاسکتاہے۔لیکن شواہد سےپتہ چلتاہےکہ بحرین میں عوامی جوش وخروش انسانی حقوق کےکارکنوں کی گرفتاری سےمزیدبڑھےگا ۔اس وقت آل خلیفہ کےساتھ ساتھ حکومت کی برطرفی اورپارلیمنٹ کی تحلیل ایک قومی مطالبےمیں تبدیل ہوچکی ہے۔
بحرینی عوام اعلان کرچکےہیں کہ اس ملک پرحکمراں نظام کاشیرازہ بکھرنےتک وہ ناانصافی،امتیازی سلوک اورظلم وجورکےخلاف اپنی تحریک کاسلسلہ جاری رکھیں گے۔ ...............
/169